Album Name:

Sindhi Mehfil

Volume No:

55

Company:

Lok Fankar Production (LFP)

Author:

Waseem Sibtain

لیجنڈ لالہ عطاء اللہ خان نیازی عیسی خیلوی نے یوں تو سات زبانوں میں 50 ہزار گیت و غزلیں گائی ہیں۔ لالہ جی بنیادی طور پہ سرائیکی لوک گلوکار ہیں، انہوں نے فوک گائیکی سے آغاز کیا۔ ابتداء میں لالہ جی کو ان کے اپنے شہر عیسی خیل کے شاعروں نے لوک دھنوں پہ گیت لکھ کر دیئے جو لالہ جی نے اتنے خوبصورت انداز سے گائے کہ وہ گیت امر ہو گئے۔۔
لالہ جی کو شہرت تو دو اردو غزلوں سے ملی۔
"ادھر زندگی کا جنازہ اٹھے گا"

"دل لگایا تھا دل لگی کیلیے"
لیکن لالہ جی نے سرائیکی اور اردو کے علاوہ پنجابی، ہندکو، پشتو، ہندی اور سندھی زبان میں بھی کمال گایا۔
لالہ وہ واحد گلوکار ہیں جنہیں ناصرف پنجاب، بلکہ سندھ، بلوچستان، گلگت، بلکہ آزاد کشمیر سے لیکر سپین اور فجی میں بسنے والے لوگ بھی دیوانہ وار سنتے ہیں۔
گوروں کو بھی لالہ جی کے گیتوں پہ رقص کرتے دیکھا ہے۔ بھارت بنگلہ دیش اور خلیجی ممالک میں لالہ جی کے کروڑوں پرستار ہیں۔ لالہ جی نے اردو پنجابی اور سرائیکی کے بعد سندھی زبان میں بھی بیحد عمدہ گایا۔
1986 میں لالہ جی نے سندھی زبان تین البم ریکارڈ کروائے تھے۔ لوک فنکار پروڈکشن نے اپنے سٹوڈیو میں لالہ جی کے تین البم جن میں 12 سندھی گیت ریکارڈ کیے۔ ان گیتوں کو سندھ کے شاعر قیصر نواز، استاد بخاری، سجاد بسمل، انور قمبرانی اور نواز چانڈیو نے لکھا تھا۔ گیتوں کا میوزک شاہد بزمی نے ترتیب دیا۔
پہلے سندھی البم میں لالہ نے اپنا تعارف اور سندھی پرستاروں کا سندھی زبان میں شکریہ ادا کیا۔ انور قمبرانی نے لالہ جی کے ایک مشہور زمانہ گیت "وے انج پنڈی تے پشاور لگا جاندائے وے عیسی خیل دور تے نئیںکی طرز پہ گیت لکھا جس کا مفہوم کچھ اس طرح ہے۔۔
"ونجی ویٹھائیں توں کیہڑے شہر ماں ٫میں گولے گولے تھکجی پئیس"
"نہ توں دادو میں ملیں نہ سکھر میں ٫ماں گولے گولے تھکجی پئیس"

مفہوم!!!
"تو کون سے شہر میں چلا گیا ہے، میں تجھے تلاش کر کر کے تھک گیا ہوں"

"نہ تو دادو میں ملا نہ سکھر میں، میں تجھے تلاش کر کر کے تھک گیا ہوں"
پہلا عنترہ؛؛؛
لاڑکانہ، رتو ڈیرو، نہ ڈٹھو حیدر آباد میں
ماتلی،    تلہار،   بنی  سعید   آباد   میں
"خیر پور" میں "میہڑ"  میں "قمنبر" میں
"ماں    گولے     گولے    تھکجی   پئیس"

مفہوم!!!
لاڑکانہ، رتو ڈیرو، نہ  دیکھا حیدر آباد میں
ماتلی،  تلہار،   بنی     سعید    آباد   میں
"خیرپور" میں "میہڑ" میں    "قمنبر" میں
میں تجھے تلاش کر کر کے تھک گیا ہوں
"

(لاڑکانہ، رتو ڈیرو، حیدرآباد، ماتلی، تلہار، بنی سعید آباد، خیر پور، میہڑ، قمبر۔۔ یہ سندھی کے شہروں کے نام ہیں)
دوسرا عنترہ
ونجپ تاں مکھ اے بودھایوں ویاء آ
گھٹ میں گھٹ    موکلایوں  ویاء آ
چوری  تالو   ہڑی  ویو   در   میں
ماں  گولے   گولے   تھکجی    پئیس
مفہوم
!!!

تونے جانا تھا تو چہرہ تو دکھا جاتے (مل کر جاتے)
کم     سے     کم    بتا     کر       تو      جاتے
چوری  سے  دروازے  پہ  تالا  لگا  کے  چلے  گئے
میں  تجھے  تلاش کر کر  کے  تھک  گیا  ہوں

اگر اس سندھی گیت کی دھن کو سنا جائے تو یہ دھن موسیقار صابر علی صاحب نے بنائی تھی۔
لالہ کے مشہور زمانہ گیت
"وے انج پنڈی تے پشاور لگاجاندائیں وے عیسی خیل دور تے نئیں"
کی دھن ہے۔ لیکن پنجابی گیت اور اس سندھی گیت کی موسیقی الگ الگ ہے۔ پنجابی گیت کی دھن اور موسیقی صابر علی تے ترتیب دیا، جبکہ اس سندھی گیت کی دھن صابر علی کی ھے جبکہ موسیقی شاہد بزمی کی ہے۔ اگر دونوں گیتوں کی گائیکی کو دیکھیں تو جتنے پیار سے لالہ نے پنجابی میں پنڈی پشاور عیسی خیل کا نام لیا اسی محبت اور خوبصورتی سے سندھی زبان میں لاڑکانہ، رتو ڈیرو، حیدر آباد، خیر پور کا نام لیکر گایا۔ اس گیت کو شاہد بزمی نے باکمال سندھی فوک سازوں سے سجایا۔

چونکہ مجھے سندھی زبان سمجھ آتی ہے اور دوران سروس میرے ساتھیوں دوستوں میں بہت سے سندھی بھائی بھی شامل تھے، اس لیے ان کیساتھ میل جول سے سندھی زبان سمجھنے میں آسانی رہی۔ تھوڑی بہت سندھی زبان بھی بول سکتا ہوں۔ اس لیے لالہ جی کے باقی 532 کیسٹ البمز کے ساتھ  تین منفرد سندھی کیسٹ البم میری کولیکشن میں ہمیشہ پسندیدہ رہے ہیں۔
لالہ جی نے جس خوبصورتی سے سندھی زبان میں گایا بیحد عمدہ گایا، بلاشبہ وہ باکمال اور لیجنڈ گلوکار ہیں۔

تحریر و تحقیق
وسیم سبطین چکوال
!!!