Album Name:

Wali Ne Tehnoo Sajdi Berhi

Volume No:

15

Company:

Sonic

Author:

Waseem Sibtain

اپریل 1996 میں سونک انٹر پرائزز نے لالہ جی کا البم نمبر 14 "کملی دیوانی" البم نمبر 13 "پیار نال نہ سہی" کے بعد دو سال کے وقفے سے ریلیز کیا۔ سونک کے علاوہ لالہ جی پی ایم سی اور ھیرا کمپنی کے ساتھ بھی البم ریکارڈ کرتے تھے۔ واضح رھے البم نمبر 13 عیدالفطر پہ مارچ 94 میں اور البم 14 اپریل 96 میں ریلیز ھوئے ۔

لالہ جی کے پرستار لالہ جی کے نئے البم کا بڑی شدت سے انتظار کرتے تھے۔ 90 کے عشرے میں لالہ جی کے فن کا پنچھی پوری آب و تاب سے فلک پہ محو پرواز تھا۔ "دلاں دے تاجر", "محبت کی قیمت", "ماواں ٹھنڈیاں چھانواں", "تھیوا", "قمیض تیڈی کالی", "پیار کا سودا", "گیتاں دی رانی" اور "چمٹا وجانواں" جیسے سوپر ڈُوپر ھِٹ شاھکار البمز بھی سونک کمپنی کی ریلیزنگ نے بھی لالہ جی کو بامِ عروج دیا۔

البم نمبر 14 کے بعد جنوری 1997 میں لالہ جی نے ایک اردو البم "پیار کا انجام" پی ایم سی البم 67 ریلیز کیا۔ اس کے بعد سونک کمپنی نے ایک بہت خوبصورت البم نمبر 15 "والی نی تینوں سجدی بڑی والی" ریلیز کیا جس میں لالہ نے حیران کُن طور پہ آج سے 18 سال قبل RGH البم نمبر 14 میں ریکارڈ کیا ایک لوک گیت "واہ واہ جھلارا بوچھنڑ دا" ریکارڈ کروا دیا۔

لالہ جی کو اُن دنوں لیجنڈ موسیقاروں کا ساتھ بھی شہرت دلوانے میں کلیدی کردار ادا کر رھا تھا۔ جن میں صابر علی, ماسٹر امین, جی اے چشتی اور افضل عاجز کا نام سرفہرست رھے گا۔ سو اس لوک گیت کو لالہ جی کے سُر اور الاپ کیساتھ شاعر و موسیقار افضل عاجز صاحب نے اور خوبصورت بنا دیا۔ سوال یہ ہے کہ اس گیت کو دوبارہ کس وجہ سے گایا گیا؟؟؟
کیا لالہ جی کے پاس شعراء کی کمی تھی؟
کیا کوئی گیت لالہ کو اس وقت کے شعراء کرام کا لکھا پسند نہیں آ رہا تھا؟؟

لالہ جی کو ایک گیت شاعر اعجاز سیال نے جولائی 1996 میں لکھ کر ان کے دفتر لاہور میں جاک ر دیا جسے لالہ نے بہت پسند کیا اور اسے اپنی ٹیبل کی دراز میں رکھ کر اسے نئے البم کیلیے منتخب کر لیا۔اس گیت کی دُھن اور ٹریک بھی تیار ہو گئے مگر ریکارڈنگ کے وقت وہ لکھا ہوا گیت ہی نہ مل سکا۔ اعجاز سیال صاحب کا لکھا یہ گیت ایک شوخ و چنچل گیت ہے جسے لالہ جی نے بہت ہی پسند کیا تھا اور اسے اگلے البم میں ریکارڈ کروانا چاہتے تھے۔ لیکن!!!! اعجاز سیال صاحب کا لکھا ھوا یہ گیت ریکارڈ نہیں ہو سکا۔